Sunday, August 9, 2015

سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرارداد کی حقیقت

سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرارداد کی حقیقت
گذشتہ روز سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے اپنے خبث باطنی کا گھٹیا ترین مظاہرہ کرتے ہوئے اور مہاجروں کے خلاف اپنے سینوں میں چھپے ہوئے بغض وعناد، شدید نفرت اور بدترین تعصب کو باہر لاتے ہوئے کروڑوں عوام کے متفقہ قائد ، اسمبلی میں نصف اراکین کے رہنما   اور صوبے کی نصف سے زائد آبادی کےنمایئندہ لیڈرکے خلاف ایک قرارداد منظور کرانے کا ڈرامہ رچایا۔لیکن کیا یہ قرارداد کوئی قانونی حیثیت بھی رکھتی ہے؟
قرارداد کے متن پر، اسکے پیش کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی اور نفرت و تعصب پر مبنی سیاست اور بدنیتی پر تو بعد میں بات کریں گے پہلے ہم ان  لوگوں کی اس غلط فہمی کو دور کردیں کہ اس قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت ہے۔ ہم انہیں یاد دلاتے چلیں کہ یہ کوئی پرانی بات نہیں ہے بلکہ ایک ہفتے سے بھی کم کا قصہ ہے جب پی ٹی آئی کے مستعفی اراکین پارلیمنٹ کوپارلیمنٹ میں واپس لاکر بٹھانے کی کوشش کی جارہی تھی اور متحدہ قومی موومنٹ نے انکے خلاف ایک قرارداد پیش کی ہوئی تھی جس کے تحت یہ تمام اراکین اپنی نشستوں سے مستعفی ہوچکے تھے اور اب پارلیمنٹ کے رکن نہیں رہے تھے۔ اس موقعے پر وہ تمام طاقتیں جو آج وطن عزیز میں ایک مکروہ کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں ایک بار پھر مجبور ہوگیئں کہ وہ متحدہ کے قائد جناب الطاف حسین کے آگے ہاتھ جوڑیں کہ وہ ان لوگوں کو جو ایوان میں اجنبی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے انہیں نکال باہر کرنے کی قرارداد واپس لے لیں۔ اس موقعے پر تمام تربے غیرتی اور مطلب پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسپیکر کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ  جناب الطاف حسین سے رابطہ کرے اور انہیں آمادہ کرے کہ وہ اپنی قرارداد
واپس لے لیں۔
جناب الطاف حسین پاکستان کے وہ واحد لیڈر ہیں جن کا دامن سب سے زیادہ وسیع ہے اور باوجودیکہ انکے ساتھ ہمیشہ ہی نفرت کا برتاؤ کیا گیا لیکن انہوں نے اپنے در پر جھولی پھیلا کر آنے والے کو کبھی  خالی ہاتھ واپس نہیں کیا۔ ان کے در سے کبھی کوئی سوالی خیرات پائے بغیر نہیں لوٹایا گیا۔ اسی روایت کے تحت  جناب الطاف حسین نے ایک بار پھر وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئےاپنے اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ اپنی قرارداد واپس لے لیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ جو اب تک ایوان میں اجنبی ہی ہیں یہاں سے بیدخل کئےجانے سے بچ گئے۔
اب یہاں جو اہم نکتہ ہے وہ یہ کہ کیا ایم کیو ایم اس قرارداد کے واپس لینے کے ساتھ اپنے مؤقف سے بھی دستبردار ہوگئی تھی؟ ایسا ہرگز نہیں تھابلکہ وہ اپنے اس مؤقف پر ابھی تک قائم ہے کہ تحریک انصاف کے یہ تمام لوگ جو اپنی نشستوں سےمستعفی ہوچکے ہیں وہ اب ایوان کے رکن نہیں رہے۔ یہی صورتحال ان تمام صوبائی اسمبلیوں کی ہے جہاں جہاں سے ان لوگوں نے استعفے دیئے تھے۔ ان میں سندھ اسمبلی بھی شامل ہے جہاں کے اسپیکر نے تو انکے استعفے منظور ہوجانے کا اعلان بھی کردیا تھا۔ اس طرح اب وہ شخص جو ایوان کا رکن نہیں ہے کس طرح ایوان میں قرارداد پیش کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس قرارداد کی قانونی حیثیت کچھ نہیں ہوگی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایم کیو ایم کا اور اسکے ساتھ مولانا فضل الرحمن کا مؤقف غلط ہے یا درست۔ تو اس بارے میں آیئن میں اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ ایک معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے کیلئے بھی اسکو سمجھنا مشکل نہیں ہوتا۔ آیئن کے تحت کوئی بھی ممبر اس وقت مستعفی سمجھا جائے گا جب اس کا استعفی اسپیکر کے پاس پہنچ جائے۔ اسکے لئے اسپیکر کا کسی بھی قسم کا صوابدیدی اختیار نہیں ہوتا کہ وہ استعفی منظور یا مسترد کرے ۔ یعنی استعفے کا اسپیکر کے پاس پہنچ جانا ہی استعفے کی منظوری سمجھی جائے گی۔ صرف دو صورتیں ایسی ہیں کہ اسپیکر اس استعفے کو مسترد کردے اور وہ یہ کہ متعلقہ رکن خود یہ بات کہہ دے کہ اس نے استعفی نہیں د یا  یا یہ کہ وہ دباؤ کے تحت مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے کیس میں ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ تمام ارکان  کمال ڈھٹائی کے ساتھ اس بات پر جمے رہے کہ وہ نہ تو یہ کہیں گے کہ انہوں نے استعفے نہیں دیئے اور نہ ہی وہ یہ کہیں گے کہ انہیں زبردستی استعفے دینے پر
مجبور کیا گیا۔
اس موقعے پر اسپیکر نے پاکستان کی تاریخ میں اپنا نام ان لوگوں کی فہرست میں درج کرا لیا جنہیں کبھی اچھے نام سے یاد نہیں کیا جائے گا۔ وہ اس بات پر اڑے رہے کہ وہ ان کے استعفے منظور نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی کا لیڈر اور اسکے ارکان  و کارکنان اسپیکر کو ذلیل و رسوا کرتے رہے  لیکن اسپیکر کو نہ جانے کس نے کہاں سے اشارہ دے رکھا  تھا کہ انہیں سیٹ سے محروم نہیں کرنا ہے۔ جائز یا ناجائز انہیں ہرصورت اسمبلی میں بٹھا کر رکھنا ہے۔اسکے پیچھے کیا سازش ہے یہ تو آنے والے وقت میں پتہ چلے گا لیکن اس سازش کے کچھ خدوخال سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور کئی غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹیں (یہ رپورٹ یہاں پڑھئے)، پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کے بیانات اور کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف ہونے والا آپریشن اس جانب اشارہ کررہا ہے کہ پی ٹی آئی کو  کراچی پر مسلط کرنے کیلئے بہت اونچی سطح پر کچھ فیصلے کئے جا چکے ہیں۔اور اس کا مقصد محض پی ٹی آئی کو کراچی پر مسلط کرنا نہیں بلکہ اسے تو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جانا ہے، اصل مقصد کراچی پر قبضہ کرنا اور اسے اسلام آباد سے کنٹرول کرنا ہے۔
کسی اسمبلی ممبرکو اسکی نشست سے محروم کرنےکیلئے دوسری  صورت آیئن کے تحت یہ ہے کہ وہ اپنی نشست سے چالیس روز یا اس سے زیادہ غیر حاضر رہے اور ایوان میں کوئی رکن بھی انکے خلاف تحریک پیش کردے تو اس تحریک کی کامیابی کی صورت میں بھی وہ اپنی نشست سے محروم ہوجاتا ہے۔ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی استعفے دینے کے بعد ایوان سےمسلسل غیر حاضر رہے لہذا وہ اپنی نشستوں سے محروم ہوسکتے تھے اگر انکے خلاف تحریک پیش کردی جاتی۔ جب ایسا ہواتو اسپیکر صاحب اور انکی جماعت کے لیڈر جناب نواز شریف سمیت پیپلز پارٹی کے اراکین نے بھی اوپر سے آنے والے احکامات کے تحت اس تحریک کی مخالفت کی۔ لیکن ایوان کے اصولوں کے تحت اگر ایک بھی رکن تحریک کیلئے کھڑا ہوجاتا تو اسپیکر کو تحریک پر رائے شماری کرنا لازمی تھی۔ نہ صرف نواز شریف بلکہ پیپلز پارٹی بھی اس خوف میں مبتلا تھی کہ اگر تحریک پر رائے شماری ہوگئی تو انکے بہت سے ارکان تحریک کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اکثر اراکین انہیں ڈی سیٹ کرنے کے حامی تھے۔ ظاہری بات ہے کہ یہ صورتحال ان کے لئے پریشان کن ہوتی۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی قیادت بھی اس پریشانی میں تھی کہ کہیں اس کے کئی ارکان ڈی سیٹ ہونے کے خوف سے یہ نہ کہہ دیں کہ ان سے زبردستی استعفے لئے گئے یا یہ کہ استعفے پر ان کے دستخط نہیں ہیں۔اب اگر اسپیکر کسی کے کہنے پر یا دباؤ پر یا اپنی رضا سے ان لوگوں کو اسمبلی میں بیٹھنے کی اجازت دیتا ہے تو وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کررہا ہے اور غیر قانونی حرکت کا مرتکب ہورہا ہے۔ یہاں ایک بہت ہی اہم نکتہ ہرگز فراموش نہ کیا جائے کہ اگر اسمبلی میں ان اجنبی افراد کو بیٹھنے بھی دیا جاتا ہے تو کوئی بھی پاکستانی شہری کسی بھی وقت عدالت سے رجوع کرکے انہی یہاں سے نکال باہر کرسکتا ہے۔ یہ حق آیئن نے  ہرپاکستانی شہری کو دیا ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
لہذا  تمام اسمبلیوں میں جہاں جہاں بھی اسے پی ٹی آئی کے اراکین نے پیش کیا یاوہ اس کے پیش کرنے میں شریک تھے اور ان کے دستخط ان پر موجود ہیں وہاں وہاں ان قراردادوں کی نہ صرف کوئی آیئنی یا قانونی حیثیت  نہیں ہے  بلکہ انکو منظور کرنے والے اور پیش کرنے والے اور ان میں شراکت رکھنے والے سب مجرم ہیں۔ چونکہ یہ قرارداد یں ایسے افراد کی جانب سے لائی گئی تھیں جو اسمبلی کے رکن نہیں ہیں تو انکی قانونی حیثیت کچھ نہیں رہ جاتی اور ان قرارداد وں کو ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسے یہ پیش ہی نہیں ہوئی تھیں۔    
یہ حقیقت تو اس وقت سب جانتے ہیں اور مانتے ہیں  کہ اس وقت  ملکی منظر نامے میں ایم کیو ایم کے اور اسکے قائد کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے اسکے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جو لوگ اسے غلط سمجھتے ہیں وہ اس پر بات کرتے یا لکھتے ہوئے خوفزدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ بھی بہر حال اپنے کنبوں کی اور اپنی سلامتی کو داؤ پر لگانا نہیں چاہتے۔ لیکن کچھ وہ لوگ بھی ہیں جو ذہنی طور پر ابتک انگریز کی غلامی سے باہر نہیں آ سکے وہ انہی قوتوں کے ایماء پر اور اپنے اندر چھپی ہوئی نفرت اور تعصب کے باعث ایسا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ 

5 comments:

  1. قائد تحریک نے صرف تنقید کی اس سے پهلے تو زرداری اور عمران خان نے فوج کو فاحشی گالیا دی تهی اس ٹایم یہ بغیرت ملک دشمن میڈیا اور ملک دشمن نام نهاد لیڈران کیو خاموش تهے کهاں انکی غیرت مرگئ تهی قائد تحریک کےخلاف بهوگنے والوں کی عصیت ایک گلی کے کتے جیسی هے

    ReplyDelete
  2. یم کیو ایم کے کارکنان کو گرفتار کرکے 10 دن یا 20 دن یا 1 مهینہ ان پر تشدد کرکے بعد میں انکی گرفتاری ظاهر کرکے عدالت میں پیش کیا جاتا هے اور پهر عدالت انکو 90 دن کے ریمانڈ پر رینجرز کو حوالے کردیتی هے اور عدالت رینجرز سے اتنا بهی نہیں پوچهتی یہ ادمی کرفتاری کے بعد اتنے دن کهاں تهے یہ کونسا قانون هے اور کونسا سا انصاف هے اور کونسا آئین هے قانون کے مطابق تو مجرم کو گرفتار کرنے کے بعد فل فور عدالت میں پیش کیا جاتا هے یها تو بهت سے دن اپنے پاس رکهنے کے بعد عدالت میں پیش کیا جاتا هے ایسا سلوک تو مجرموں کے ساتھ بهی نہیں کیا جاتا

    ReplyDelete
  3. جو کتے آج الطاف بھائی کو ملک دشمن کهے راهے هے ان کتوں نے ماضی میں مادر ملت فاطمہ جناح پر بهی ملک دشمنی کا الزام لگایا تھا

    ReplyDelete
  4. وشال بھائی آپکی تحریر واقعے تعریف کے قابل ہوتی ہے،،،،،،،، آپ سچ اور حق بات کو بہت ہی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں

    ReplyDelete
    Replies
    1. تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ

      Delete